Surprise Me!

sulpzawa گزری ہوئی زندگی کو کبھی یاد نہ کر

2015-03-18 12 Dailymotion

گزری ہوئی زندگی کو کبھی یاد نہ کر
تقدیر میں جو لکھا ہے اس کی فریاد
نہ کر جو ہو گا وہ ہوکر رہیگا
تو کل کی فکر میں اپنی آج کی ہنسی
برباد نہ کر ہنس مرتے ہوئے بھی
گاتا ہے مور ناچتے ہوئے بھی روتا
ہے یہ زندگی کا فنڈہ ہے بوس
دکھوں والی رات نیند نہیں آتی
اور خوشی والی رات کون سوتا ہے
لفظ ہی ایک ایسی چیز ہے جس کی
وجہ سے انسان یا تو دل میں
اتر جاتا ہے یا دل سے اتر جاتا ہے
زندگی کی کشمکش میں ویسے تو
میں کافی بیزی ہوں
لیکن وقت کا بہانہ بناکر اپنوں کو
بھول جانا مجھے آج بھی نہیں آتا
جہاں یار یاد نہ آئے وہ تنہائی کس کام کی
بگڑے رشتے نہ بنے تو خدائی کس کام کی
بیشک اپنی منزل تک جانا ہے پر جہاں سے
اپنا دوست نہ دکھے وہ اونچائی کس کام کی
نشہ محبت کا ہوشراب کا ہو یا واٹس اپ کا
ہو ہوش تو تینوں میں کھو جاتے ہیں
فرق صرف اتنا ہے شراب سلا دیتی ہے
محبت رولا دیتی ہے
اور واٹس اپ یاروں کی یاد دلا دیتی ہے
محمد شریف محمدی